شوقِ فراواں

سوئے دیارِ گُل مدحتِ مدینہ لبی⚠️ چلے

ہم چومنے کو خاکِ درِ مصطفیٰؐ چلے

مٹ جائے گی یہ حسرتِ⚠️ لبی⚠️ تمام

پینے کو آپ چشمۂ لطف و عطا چلے

اُس کے جگر کا چاک رفو ہو گا آن میں

جو بھی حضورِ خواجۂ ارضِ و سا⚠️ چلے

سائل درِ رسولؐ سے لے لے ہیں بانہراد⚠️

سب اُن سے لے کے لعل و گہر بھی بیا⚠️ چلے

وہ مہربیاں⚠️ سنیں گے ہماری گزارشیں

ہم اپنے دل میں لے کے سبھی بے لدا⚠️ چلے

دیکھیں گے نور ذاتِ احد کی تجلیاں

ہم دیکھنے کو جلوۂ شمسِ ابتنی⚠️ چلے

ساجدؔ حبیبؐ نے ہمیں ہے بلا دیا

ہم اپنے گھر شادماں شکرِ خدا چلے