شوقِ فراواں

بہ ادب ہو کر جو چشم مہرباں سے گر پڑے

یہ حقیقت ہے وہ بامِ آسماں سے گر پڑے

جب صدا اللہ اکبر کی اٹھی چاروں طرف

دشمنانِ دیں کے دل ڈر آپؐ کے اذاں سے گر پڑے

ہے کسے معلوم فردا آئے گا کس حال میں

ذہن کے خاکے تو مرگ ناگہاں سے گر پڑے

نارسا اُن کی نظر اور فکرِ تہی حق ناشناس

تھے یہ اختر سپہرِ آستاں سے گر پڑے

مشرکوں کے دل یقیں کے نور سے محروم تھے

یوکھلا کر شدّت وہم و گماں سے گر پڑے

لب پہ جس کے خاموشی ہے پا گیا آخر نجات

ہے وہ خاموش رازِ جاں جس کی زباں سے گر پڑے

ہم ہوئے ساجد سِک سار اُن کی رحمت سے فقط

اور ہوں گے اپنے جو باربارِ گراں سے گر پڑے