← شوقِ فراواں
عرش سے بڑھ کر ہے رہتے میں شبستاں نور کا
ہو غلامِ اُنؐ کا مقدّر ہے کہاں غفّور کا
یادِ اُنؐ کی ہے مرے کرب دل و جاں کا علاج
چارہ ہے مصلِ آلام مِلّے آنسور کا
آپؐ کے دم سے زمین و آسماں کی روشنیاں
گل جہاں میں ہے اُجالا اُس سراپا نور کا
آپؐ سن سکتے ہیں گوشِ حق سے باتیں دور کی
ایک سا ہے فاصلہ اُنؐ کو قریب و دور کا
جس پہ مستی چھا گئی روحِ کلیمِ اللہ پر
روشنی تھی اُس کی صفت کی نورِ طور کا
خیر خلقِ اللہ عالم میں ہیں محبوبؐ خدا
ترجمان ہے فعلِ اُنؐ کا دفترِ دستور کا
آپؐ کا فرمان عالی حاکمِ ربّ العالمین
حرف کیوں بدلے گا ساجدؔ آپؐ کے مذکور کا