شوقِ فراواں

اگر رحمت ہے مستی جاں کہاں غم ہے سہارے کا

بھنور کا کوئی اندیشہ نہ کچھ خدشہ کنارے کا

جنابِ سیّدِ لولاک مونِس ہے سہارے کا

وہی ہے مشتاق وحسنِ دنیا و غمِ مارے کا

نبیؐ کی راہ میں مرنا ہے گویا جاوداں جینا

خدا کی راہ میں لُٹنا نہیں سودا خسارے کا

نبیؐ کا جو حصار لطف میں رہتا ہے ہر ساعت

نہیں محتاج وہ ہرگز عزیزوں کے سہارے کا

خدا کے حکم سے منظور ہیں وہ شکرانی کا

نظامِ اسباب کا ہے مختصرِ اُنؐ کے اشارے کا

نبیؐ کا بولنا یا بیٹھنا اتنا خدا سے ہے

وہ گر چاہیں اُس کے جہاں کے پیٹے بچھارے کا

شہرِ دیں نے جھنکھتے ہیں تاج و تاج و ساجدؔ مندیں

کھلا رہتا ہے روشن باب اُس عالی دوارے کا