← شوقِ فراواں
اُن کی خدمت پاک کے بیاں احوال کیا
شکرِ خدا کا پرانا آپؐ نے دورِ وبال کیا
شاہِ دوراں جانِ دو عالم جو آتے تھے
سجدہ کر کے کعبہ نے دل سے شاہ کا استقبال کیا
تھا اُستادِ فرشتوں کا مرزود ہوا معتوب ہوا
حکمِ خدا کے سامنے اُس نے کیوں کر استدلال کیا
سیم و طلا یاقوت و زمرد کام نہ آئے کچھ
یزداں کو جو بیکسر بھگلوا اور اکٹھا مال کیا
بدلی سر پر قلم کی کی چھپائی غیروں کی کو رہ اپنائی
دین میں کی بات نہ مانی تو بُرا یوں حال کیا
سیدھا رستہ خاص نبیؐ کا جس پہ ہے چلنا عافیت
نامِ نبیؐ نے دل سے ہمارے رفعِ اضطلال کیا
میرے موٗس ساجدؔ مکرّم شاہِ عالم وہ غم خوار مرے
مشکل میری سہل ہوئی ہے جب بھی اُن کا خیال کیا