شوقِ فراواں

اُن کے کرم سے چشمہ حیوان بہہ گیا

پتّھر سے آبِ زمزم و عرفان بہہ گیا

میرے حضورؐ! آپؐ کی اک چشمِ لطف سے

حسرتِ نکل گئی مرا ارمان بہہ گیا

دل پہ محیط کرب ڈُھمواں بن کے اُڑ گیا

آنکھوں میں میرے دردِ کا طوفان بہہ گیا

کس درجہ مجھ پہ مہربان ہے رحمتِ تمام

دل سے تمام وہم کا بیچان⚠️ بہہ گیا

کچھ اور ہو گا حالِ دل ہم کو نصیب

پانی نبیؐ کے لطف کا جب آں بہہ گیا

ساجدؔ اے نصیب ہوا ساحلِ مُراد

موجوں میں رحمتوں کی شنا خواں بہہ گیا