شوقِ فراواں

ملتفت جب سے ادھر جانِ چاں ہو گیا

خاطرِ بیمار کا اب حال اچھا ہو گیا

چشمِ جاں کو اب خدا کی دید کا آساں ہو گئی

رُوئے زیائے نبیؐ سے حق سے حق ہویدا ہو گیا

زندگی میں کامرانی بن گئی اس کی

عہد جس کا سرورِ عالم سے ایفا ہو گیا

کام بست و سہ برس میں آ گیا انجام تک

جا بجا توحید کا عالم میں چرچا ہو گیا

دینِ کی آواز اُٹھی اس جہاں میں چار سُو

وحی حق کا کام فضل سے پورا ہو گیا

ظلمتیں شرک و نفاق و کفر کی سب چھٹ گئیں

ہر طرف آفاق میں حق کا سورا⚠️ ہو گیا

ساجدؔ اصنِ و راستی دستورِ عالم ہو گئے

گُل جہاں میں مصطفیٰؐ کا بول بالا ہو گیا