← شوقِ فراواں
حق کا رسولؐ آخری شاہِ رسل ہوا
آقا ہمارا دہر میں آقائے کل ہوا
گردابِ غم میں پنچ گئی کشتی دلِ حضورؐ
اک چشمِ درد ناما مرا ورنہ قل ہوا
جاتی ہے حق کو اُنؐ سے فقط راہِ دور
خوشبو سے چیتے فاصلے پہ برگ گُل ہوا
دینِ میں کوئی بھی غم نہیں اس کی راہ میں
خلق اور حق کے درمیاں یہ دینِ یل ہوا
عظمت کے بامِ قصر سے وہ سر کے بل گرا
مبود جس کا راہِ کا چتّر بھٹیل⚠️ ہوا
اپنے مقام کا رہ رہے ہم کو لحاظ خاص
وہ نورِ ذات اپنا امیر مسل⚠️ ہوا
فکر و خیال کا کریں ساجدؔ محاسبہ
اپنے دل خاموش سے کیوں کر یہ دل ہوا