← شوقِ فراواں
کاش ہو شاہِ رسلؐ کے یہ ہِرا سرِ زیر پا
در دریچے وا ہوں وہ دل کے بھی برابر زیر پا
جس طرف تشریف لے جاتے ہیں حضرتِ مصطفیٰؐ
ہیں بچھاتے نوریاں قدس بھی پر زیر پا
آمدِ و رفتِ آپؐ کی ہے آج بھی اس بزم میں
رہتے ہیں ارضِ و فلک شانِکھی سمندر زیر پا
وہ زیارت گاہ خاص و عام ہے آفاق میں
شاہِ عالم سے رہا واصل جو چتّر زیر پا
آپؐ امام انبیاءؑ و مسلمین ہیں دہر میں
اُن کے ہیں گُل اولیاءِ غوث و قلندر زیر پا
آپؐ فضلِ حق تعالیٰ سے ہیں سلطان جہاں
قدسی و جنی و بشر ہیں سب کے لشکر زیر پا
آپؐ ساجدؔ پامینے ہیں کشور و تاج
رکھتے ہیں تقسیم کو گنجینہ زر زیر پا