شوقِ فراواں

اُن کا جہاں میں کون ہے ہمدوش نقش پا

کر دے مرے خدا مجھے مدہوش نقش پا

صلِ علیٰ ہے آپؐ کی نسبت کا فیض ہے

دل کو سکون آئے ہے آغوش نقش پا

تخلیق اُن کے پائے مبارک کی ہے مثال

شکر فشاں عجب ہے لب خاموش نقش پا

لاریب ہے یہ بیشتِ حُسینؑ گُل زمین دل

جس پر ہوا ہے شبِ تن و توش نقش پا

عشقاق کی نظر میں ہے قبلہ میں ہے یہ حق

جانے کوئی ہے بے زنجیر⚠️ حُسین پوش نقش پا

اس نقش پا کی ہم کو زیارت نصیب ہو

رحمت کا ہے یہ مجمعِ⚠️ سر دوش نقش پا

سائے میں پاک ساجدؔ ہو سر ہِرا

چمپ جاؤں زیر دامنِ زو پوش نقش پا