شوقِ فراواں

طاق ابرویہ شہر دیں میری محراب بنا

آئنہ ذات کا وہ روئے جہاں تاب بنا

ایک ہی نور کے جلوے ہیں بلال⚠️ اور اولیاءؑ

قیس و لیلیٰ ہے کوئی رستم و سیراب بنا

جلوئے مطلق کے مقیّد سے نظر آتے ہیں

جامِ دل اپنے کو تو ساغرِ⚠️ مہتاب بنا

ذرّہ جو نعلِ شہرِ پاک سے لپٹا تھا پاک

بہرِ حق کے لئے کرکنبِک⚠️ شبِ تاب بنا

اے خدا ! اپنی نوازش سے محمدؐ کے طفیل

لائق نبیؐ کبِ یہ دل بے تاب بنا

موجِ رحمت کی اُٹھا کر تجھے لے جائے گی

عمرہ و حج کے لئے دل سے یہ سُو اسباب بنا

شاہِ کونین کا ہے ساجدؔ فیضان

ہم جہاں بھی جھنجھے وہاں ثُجُع⚠️ احباب بنا