شوقِ فراواں

جو دیدِ مصطفیٰؐ کے دل میں لے کر آرزو نکلا

قسمِ اللہ کی وہ زندگی میں سُرخرو نکلا

ہراک تھے کے بُنوں⚠️ میں اُسی کی اصلیت

جو دیکھا بُرگِ گل اُس میں ہجوم رنگ و بو نکلا

تحقیقِ شاہؐ دیں کی ہے یہی اصلیت⚠️

پیشِ جاں جو چھماکا⚠️ اندروں اک ماہ رو نکلا

محمدؐ حق کے پیغمبر خدا میں جذب ہیں یکسر

محمدؐ کو جو دیکھا ساتھ بھی حق بُو نکلا

مرے آقاؐ کا یہ فیضانِ اہلِ پل⚠️ مدینہ پر

مدینے کا ہے جو باشی نہایت پاک خو نکلا

اذاں میں جب لیا جاتا ہے نامِ خالقِ عالم

زباں سے آپؐ کا بھی نام چاروں⚠️ چارسو نکلا

ہر اِک تھے اپنی اصلیت کی جانب ہے رواں ساجدؔ

مسافر جو نظر آیا وہ محوِ جستجو نکلا