← شوقِ فراواں
ولائے سیّدِ عالمؐ سے عہدِ قلب و جاں باندھا
حصارِ لطفِ میرے رُبرو⚠️ حق نے جاوداں باندھا
ابی⚠️ برزخِ اَلٰی کے آئینے کے سامنے آتا
یہ رشتہ میں نے اپنے اور حق کے درمیاں باندھا
مری سرکارؐ کی اک جنبشِ ابرو نے وہ کھولا
جو عقدہ تختِ تر گردش⚠️ نے تھا اے دوستاں باندھا
میں لے جاؤں گا پیامِ نبیؐ مشرق سے مغرب تک
گفتن سرے سے اپنے میں نے حق کا ترجماں باندھا
ہوا معلوم جب کچھ نہیں عالم میں غیر از نور
ذمت سے بتوفیقِ⚠️ خدا ہم نے دہاں باندھا
جَے⚠️ بھی دیکھتا ہوں وہ توگری⚠️ اپنی نظر آئے
خدا نے ہے بَسبِ⚠️ کی گرہ میں یہ گماں باندھا
بغیرِ شوقِ فراواں اور سامانِ مجھے کچھ نہیں
تیرے ساجدؔ نے یہ زادِ سفرِ ربِّ جہاں باندھا