← شوقِ فراواں
بے عشق زندگی بھی شبِ غم سے کم نہیں
یہ رہگزار⚠️ جادہ پُرخم سے کم نہیں
جس کی زباں پہ آیا نہیں نامِ مصطفیٰؐ
کیونکر وہ شخص لاشہ⚠️ دَم سے کم نہیں
رُخ سے اگر عیاں نہیں ایمان کی بہار
رنگ اس کا گیا کیا خزاں کے بھی موسم سے کم نہیں
دامنِ رسولؐ تھامے کر حاصل ہوا جو تاں
اُس نازِ تاں کا⚠️ یہ لقمہ کہاں تم سے کم نہیں
مُحسن کے دل کو توڑ کر حاصل ہے جو خوشی
ایسی خوشی جہاں میں ہے ماتم سے کم نہیں
سجدے کی آرزو ہو تو خواہشِ درود کی
ایکی⚠️ حیات موت کے عالم سے کم نہیں
ساجدؔ ہو جس میں نہ کوئی سر نہ کوئی سوز
کیونکر صدا یہ نالہ پُرغم سے کم نہیں