شوقِ فراواں

شکرِ خدا جہاں کا ہمیں کوئی غم نہیں

ہم پر کرمِ نبیؐ کا ذرا بھی تو کم نہیں

ہے بعد عمرِ گزر کوئی بیش و کم نہیں

بریدِ⚠️ کے سرِ زیر میں کیا کیا اُس میں ہم نہیں

پیامِ رسولؐ سے دل کا ہے مست ہے

ہاتھوں میں اہلِ دل کے بھی جامِ ہم⚠️ نہیں

اک چشمِ التفات ادھر بھی مرے حضورؐ!

آٹھنے⚠️ کا حوصلہ نہیں سانسوں میں دم نہیں

حاشا! وہ زندگی نہیں لاریبِ⚠️ موت ہے

دل میں اگر ولا نہیں آنکھوں میں نم نہیں

جس پر ریا میں ہے سراسر فریب ہے

قدم نہیں ہے پاک جو کیونکر وہ کم نہیں

ساجدؔ زباں وہ کیا زباں جس پر نہیں درود

آہوئے⚠️ دل وہ کیا ہوا جو گرمِ غم نہیں