شوقِ فراواں

کب کوئی مجھ پہ عنایت کی گُزری خوب نہیں

اے غمِ دور جہاں! تیری تڑی⚠️ خوب نہیں

سر پہ ہو چھاتا درودوں کا بہرحال ضرور

غم و آلام کی یہ دھوپ کڑی خوب نہیں

قابلِ غور ہے یہ بات "میں ہوں مثلِ بشرؐ"

چھوتے⚠️ ہم منہ سے کہیں بات بڑی خوب نہیں

ربِّ احمدؐ کے بروا⚠️ کوئی نہیں ہے مسجود⚠️

بات اُلٹی ہو اگر کان پڑی خوب نہیں

غیر از نورِ نبیؐ کچھ بھی نہیں عالم میں

غیر سے آنکھ اگر کوئی لڑی خوب نہیں

جنگ میں بچے و زن یا کہ ضعیفوں کا قتال

کاٹیں اشجار کہ ہو فصل گڑی⚠️ خوب نہیں

آپؐ کے بعد نبیؐ کوئی نہیں ہے ساجدؔ!

اب کسی جھوٹی بیعت کی اَڑی خوب نہیں