← شوقِ فراواں
گلشن ایجاد میں کب جلوہ و جلوت نہیں
جمعِ زر اور خواب غفلت سے ہمیں فرصت نہیں
بے نوازاں پر نبیؐ کا جب کھُلا بابِ کرم
وہ پکارا اٹھے کہ اب دل میں کوئی حسرت نہیں
سیّدِ کونین کی جن کو محبت ہے نصیب
کون سی قسمت میں اُن کی دولت و ثروت نہیں
دولتیں ہم پر لٹانے کو ہے رحمت بے قرار
اپنے دامانِ دل میں اس قدر وسعت نہیں
جن کے لب پر ہے درودِ پاک وہ خوش بخت ہیں
اِس سے پر لذت زیادہ کوئی بھی شربت نہیں
آپؐ کے رُخ کے تصور میں گزاریں رات دن
سرخوشی اس سے فزوں تر کوئی صورت نہیں
نعت گوئی ہے ساجدؔ میرے دل کی زندگی
میں تو مر جاؤں اگر آپؐ پر مرے مدحت نہیں