شوقِ فراواں

شبانہ روز شِعرِؐ دیں کا نام لیتے ہیں

ہم اُن کے ہاتھ سے دولت مدام لیتے ہیں

بدلے کو رُخِ نورِ⚠️ اُنؐ کے ابرو کے اشارے سے

اشارہ اُن کو کہتے ہیں اور ابرو اس کو لیتے ہیں

رہے گرم رمضان کی رات دن اُن کے نام کی

وہ نامِ غیر ہونٹوں پر کہاں لیتے ہیں

نگاہِ لطف سے کرتے ہیں شاد کام ہمیں

حضورِ دل کی خبر صبح و شام لیتے ہیں

پکارتے ہیں خدا کے نبیؐ کو مشکل میں

پناہ اُنؐ کی ہیں اُن کے غلام لیتے ہیں

ذرا بھی پاؤں میں رہ زندگی میں گر بھٹکے

قسمِ خدا کی ہمیں آپؐ تھام لیتے ہیں

انہیؐ کے سینہ سے لیتے ہیں نورِ تقوٰی کا

انہیؐ کے ہاتھ سے عرفانِ جام لیتے ہیں

نبیؐ تو اب بھی نبیؐ ہی دو جہاں والے

وہ ساجدؔ اب بھی سلام و پیام لیتے ہیں