شوقِ فراواں

مشقِ برزخ کی اطاعت میں ہیں سرگرم کرتے ہیں

سیرِ جلووں کی نگاہی سروِ لب⚠️ کرتے ہیں

جو ہوئے دیں کی اطاعت میں ہیں سرگرم سدا

نورِ کی موج رواں سے وہ وضو کرتے ہیں

یہ جنائیں⚠️ در سرکارؐ پہ لے جاتی ہیں

یہ بھلا ہم سے ہمارے ہی عدو کرتے ہیں

آپؐ کے نام سے کرتے ہیں ہم ہر غم کا علاج

لطفِ کے تار سے ہم چاک رفو کرتے ہیں

چار سو جن کی نظر میں ہیں خدا کے انوار

وہ کہاں فرق میانِ من و تو کرتے ہیں

اُن پر کھُل جاتے ہیں اُن کے اسرار و رموز بطن

اپنا دلؔ⚠️ آپؐ کی خاطر جو لہو کرتے ہیں

ذکرِ خاموش فقط کام ہمارا ساجدؔ

ہائے ہم کارِ مجلل⚠️ میں نہ ہو کرتے ہیں