شوقِ فراواں

ترے ہے جہاں آپؐ کی اک چشمِ کرم کو

اسیر ہے نامِ شہِؐ دیں دفعِ الم کو

اللہ میں قربان نصیب اُس کے ہیں عالی

پہچان گیا ذات کی جو شانِ اتم کو

یو بُہل⚠️ کو پہنچوگے سے آپؐ سے یہ جاننا ہے

روشن کیا اللہ نے جس شمعِ حرم کو

خالق نے سکھایا ہے انہیؐ علمِ علمِ لدنّی⚠️

سرکارؐ پڑھاتے ہیں انہیں عرب و عجم کو

افلاک سے آتے ہیں سلامی کو فرشتے

پہنچیں وہ در بارگہِ میرِ امم کو

جو علم عطا آپؐ کو خالق نے کیا ہے

اُس علم کا اک جزو کہیں لوح و قلم کو

یہ نعت نگاری بھی کرم خاص ہے ساجدؔ

گو لاکھ سخنور ہوئے شہروں کے زقم⚠️ کو