شوقِ فراواں

ذکرِ مولٰے کی ہو توفیق خدایا! ہم کو

چاہیے دردِ و غم دل کا مداوا ہم کو

آشنا ہم ہوئے توحید و خم⚠️ و غم سے

خوب سمجھا وہ گئے آکھ⚠️ خلا معنا⚠️ ہم کو

بن کے وہ آیا ہے اللہ کا نوید رحمت

شاہِؐ لولاک کا پیغام جو پہنچا ہم کو

رحمتِ حق کے سے سوا کوئی مددگار نہیں

ربِّ عالم کے کرم پر ہے بھروسا ہم کو

ہم نے ہر انتّی⚠️ کو بڑھ کر کے لیے دل سے

نظر آیا نہ کوئی اپنے سے چھوٹا ہم کو

اُن کی رحمت نے ہمیں ہمیشہ بچرے⚠️ سراافراز⚠️ کیا

خوں غذف⚠️ دھیر نے گوشے میں تھا پیکا⚠️ ہم کو

کوئی چپّی⚠️ ہی نہیں اپنی نظر میں ساجدؔ

جب سے آیا ہے نظر وہ رُخِ زیبا ہم کو