شوقِ فراواں

کوچہ شاہِؐ رُسلؐ ہم گویا ملد⚠️ جانتے ہو

دیکھتا رشکِ⚠️ سے ہے ہم کو عقدِ شیا⚠️ ہم کو

آپؐ کی راہ کا ہر ذرہ ہے سرِ تارا

باغِ فردوس بریں آپؐ کا صحرا ہم کو

یہ جہاں جلوہ ہے لاریب نور خدا ہے

اس راز میں درون حق نے بخشا⚠️ ہم کو

مکّرِؐ⚠️ محبوبؐ نے ہر اک کے کیا نقاب اُٹھائے

مختصر راہبرِؐ حق کا دکھایا ہم کو

غیر بھی آپؐ کو کہتے ہیں امیں اور صادق

مہربان ایسا دیا حق نے ہے آقا ہم کو

وہی ہے فعلِ آقاؐ کا رضا خدا تعالے کی

وہی ہیں متنِ و معنِ⚠️ حق نے ہے ایما ہم کو

دل و جاں کے وہی کہیے امام کُلّی وہی ساجدؔ

وہی جلا وہی ماوٰی وہی آقاؐ کا مولا ہو