شوقِ فراواں

ہِؐ انبیا و حبیب حق پہ شبانہ روز صلوات ہو

ہو انہیؐ سے سرخوشی دل نم⚠️ جاں کو حیات ہو

کریں یادِ اُنؐ کی نوازشیں وہ عکائسؐ⚠️ دو سعادتیں

ہو حبیبِ حق⚠️ کی شانِ جمالِ کی میرے لب پر جو بات ہو

ہوں بیاں انہیؐ کی حکایتیں ہوں انہیؐ کی ساری روایتیں

ہوں بولوں پر اُن ہی کے تذکرے کوئی دن ہو یا کوئی رات ہو

ہے نبیؐ امام جہان کا وہ رسول خاص ہے شانِ کا

وہ شجرِ تمام ہے نور کا جو کہ اُس کے پات ہو⚠️

میری آن ہے میری شانِ شاں ہے میری جاں ہے

میرا ذوق ہے میرا شوق ہے وہی نام میری نجات ہو

ہو رسولِ قبلۂ دل مرا ہو رسول کہیے⚠️ جاں مرا

کوئی شِرک ہو نہ کفر ہونہ کوئی دل میں لات و منات ہو

ہو یہی تو ساجدؔ نعت گو کے دل کی آرزو

یہ غلام اُن کا اُنہیؐ کے صدقے فنا ذات ہو