← شوقِ فراواں
عشق کی راہ نہیں فلکر⚠️ فلاطوں چلتی
کشتی شوق فقط ہے سر یوں چلتی
مجھ کو بھی آئیں نظر کاش وہ کہتے پہرے
باڑ فصل گل طلیدہ کی میں دیکھوں چلتی
رد طوفاں کو نبیؐ کا تھا اشارہ کافی
گر مخالف میرے یہ گردش گردوں چلتی
چھیڑے رہتے جو سوغات دروودوں کی انہیں
قہر کی آدمی نہ زنہار بھی یوں چلتی
گر نہ رحمت کا ہوا کا مجھے چھوونا آتا
نبض ہرگز نہ مری اے دل بے خوں چلتی
آپؐ کے قبول کے کب سے زندگی ہوتی شاداں
شہر کو چھوڑے کے کب جانب ہاموں چلتی
کب گوارا مجھے ساجدؔ یہ تھا نعتوں کے عوض
لے کے تقدیر مری دولت قارون چلتی