شوقِ فراواں

شکر یزداں! مصطفیؐ کی یاد جب بھی آئے ہے

مشک و عطر و عود و عنبر ساتھ اپنے لائے ہے

عقل تجھ وہم گماں وظن⚠️ کچھ بھی نہیں

دل ہے جو سیدحا⚠️ نبیؐ کی بزم میں جائے ہے

نام اُن کا اُن کا مجھ کو اضطراب و کرب میں

آپؐ کا لطف و کرم غم میں ہمیں بھلائے ہے

مصطفیؐ کا نام ٹھونچے دہر میں چاروں طرف

پرچم دیں اُنہیں⚠️ آفاق میں لہرائے ہے

حق تعالیٰ نے عطا کی ہیں یہ ساری نعتیں

ہر کوئی دست نبیؐ سے پائے ہے جو پائے ہے

نور رب کی ذات اُس کو آئے گا دل میں نظر

اُن کے خوان لطف سے اک بھی جو ریزہ کھائے ہے

ساجدؔ اُس کو نار دوزخ کی کوئی سمکا⚠️ نہیں

صدق دل سے سروردیں کی جو نعتیں گائے ہے