شوقِ فراواں

جس دل میں ہو یاد مصطفیؐ کی بود و باش ہے

حرماں کا داغ اُس پہ نہ غمِ خراش ہے

منکر ہے بدنصیب جو شان رسولؐ کا

مارے کے اُس کے جگر کا ہے پاش پاش ہے

جس شخص کی زباں پہ نہیں نام مصطفیؐ

یوں خانہ ہے بے چراغ ہے زندہ وہ لاش ہے

اُن کے کرم سے رات و دن کتنے خوشی میں ہیں

کوئی غم جہاں ہے نہ فکر معاش ہے

تجھ ذات اور کوئی نہیں ہے جہاں میں

ہم کیا کہیں یہ راز کیا کس نے فاش ہے

جو بھی جمال مست ہے فرخندہ بخت ہے

"افسوس" اُس کے لب پہ ہے کوئی نہ "کاش" ہے

ساجدؔ زباں صاف ہو شیریں⚠️ ذہلی⚠️ ہوئی

شاعر وہی ہے خوب جو مضمون تراش ہے