← شوقِ فراواں
نبیؐ بین ایمان نبیؐ حق بین
نبیؐ سے عیاں حق پہ یہ حق الیقیں ہے
کوئی صادق اُن سا نہ کوئی امیں
جہاں میں کہاں کوئی ایسا حسیں ہے
جہاں حاضری دینے آتے ہیں عرضی میں
ادب کی وہ جا آرامگاہ شہؐ دیں ہے
وہ صدرہ سے رہتے اُڑتی ہیں اُونچی زمیں ہے
جبیں جس سے ظاہر ہوا نور یزداں
فلک کی نظر میں وہ روشن ترین ہے
جو اُن سے گریزاں وہ حق سے گریزاں
جو اُن کے قریں ہے وہ حق کے قریں ہے
محمدؐ کا ہمسر نہیں کوئی ساجدؔ
محمدؐ سا عالم میں کوئی نہیں ہے