← شوقِ فراواں
جس طرح پھولوں سے خوشبو کا پتا لگتا ہے
یوں رُخ شاہؐ سے عیاں رب علا لگتا ہے
اُن کے فیضان کے کھلتے جاتے ہیں عقدے
جس طرح ٹھوچے کو پیغام دیا لگتا ہے
حق سے جب کرتی ہے فریاد زباں پڑھ کے درود
نالہ جاں حزیں سے جا لگتا ہے
آپؐ کی یاد میں گرتا ہے جو روشن آنسو
یہ ذر خاص اُن کی عطا لگتا ہے
آرزودے شہرِ⚠️ لولاک میں جینا ہے ایک پل
زندگی ساری سے وہ بسکہ جدا لگتا ہے
خوب و ناخوب کی یہ بات ہے ناداندی کی
دل کو مشتاق ہر کوئی جلوہ بھلا لگتا ہے
بیٹھا چاتا ہوں تصور میں نبیؐ کے ساجدؔ
جس گھڑی کام کوئی اُلجھا ہوا لگتا ہے