شوقِ فراواں

دل میں نبیؐ کے شہر کا عزم سفر تو ہے

آنکھوں پہ پیر خیال یہ میرا ادھر تو ہے

انعام اُنؐ کی پاک توجہ کا دیکھنا

در پر رسولؐ پاک کے میری نظر تو ہے

لبریز اُنؐ کے لطف سے ہو دامن میں مراد

یہ التماس ہوتنوں⚠️ پہ شام و سحر تو ہے

سارا یہ فیض شہرِ⚠️ عالیٰ کے نام کا

محسوس ہو رہا ہے دعا میں اثر تو ہے

وہ کون ہے کہ کرم پر آپؐ کا نہیں ہے

رحمت خدائے پاک کی آفاق پر تو ہے

مجھے نہ مجھے کوئی یہ احسان آپؐ کا

ہر کوئی مصطفیؐ سے بہرہ ور تو ہے

ساجدؔ ضرور اُس طرف انوار نظر آئیں گے

بارات⚠️ خدا کے لطف و کرم کا ادھر تو ہے