شوقِ فراواں

اُن کا جو حاشیہ بردار نظر آتا ہے

قدسیوں کا ہمیں سالار نظر آتا ہے

حاضری کیوں نہیں دیتا وہ نبیؐ کے در پر

جان سے اپنے جو بے زار نظر آتا ہے

ہم نے گرداب میں دیکھا جو وہ صفینہ کل رات

رحمتِ حق سے وہی پار نظر آتا ہے

لے کے آپؐ کا نام آپؐ کا پھونکا⚠️ کسی نے اس کو

شجرِ خشک⚠️ سرمردار نظر آتا ہے

تشکی⚠️ اُس کو زیارت کی ہے پہلے سے فرزوں⚠️

گو کہ گنبد ایکی⚠️ ہر بار نظر آتا ہے

راتہ⚠️ معرفت حق کا بہت ہے دشوار

آپؐ کے لطف سے ہموار نظر آتا ہے

آپؐ کا نام ہے ہر اک زباں پر ساجدؔ

ہر کوئی عاشق سرکارؐ نظر آتا ہے