شوقِ فراواں

دل کی نسبت جب سے سرکارؐ سے ہے

اپنی جاں آزاد آزار سے ہے

جلوہ حق دیکھنا ممکن نہیں

شرک آلودہ دل بیمار سے ہے

قرب اگر اللہ کا مقصود ہے

بچیے⚠️ کہیں اللہ شیرِ⚠️ ابرار سے ہے

ہو ادا کیسے نماز باحضور

پوچھیے یہ عارف ہشیار سے ہے

اِس کے فروں⚠️ میں محبت ہے یقیں

دل سے ملتے ہیں دل احد کے کہسار سے ہے

نکبت آتی آتی ہے ضرور

آپؐ کے ہر ایک خدمت گار سے ہے

اب کے ساجدؔ گل⚠️ عطر گل

آپؐ کے خوشبو بھرے بازار سے ہے