شوقِ فراواں

خوش رہتے ہیں ہم شام و سحر اُسی سے

پھر آنے کو ہم جاتے ہیں اللہ کے گھر سے

اللہ عطا کرتا ہے ہے سب نعتیں ہم کو

ملتی ہیں ہمیں وہ شہرِ⚠️ لولاک کے در سے

رونق ہے مدینے کی گلی کوچوں میں

ظاہر ہے خوشی عید کی ہر شام و سحر سے

سہانکا⚠️ ہر گل چنتستاں⚠️ باداماں⚠️

گذری⚠️ ہے مدینے کی ہوا باغ مدینے کی ادھر سے

وہ طوف و زیارت کے طرب ناک زمانے

وابستہ جو نظارے ہیں دامان نظر سے

یہ روشنیاں کس رخ تاباں کی ضیا ہیں

پوچھتے⚠️ ہیں یہ کوئی بات ذرا رنش⚠️ و قمر سے

اللہ عطا اُس کو کرے نعمت دارین

ساجدؔ نے سیکھا ہے جس⚠️ نے بنر⚠️ اہل ہنر سے