شوقِ فراواں

اس سمت باد لطف شہرِ⚠️ دوسرا چلے

اپنا یہ کاروان محبت سدا چلے

سیدھی خدا کی راہ شہرِ⚠️ دیں دکھا چلے

کتنا ہے بدنصیب جو رستہ جدا چلے

طیارہ ہی پر چلنا ضروری نہیں کوئی

ممکن ہے در پہ اُن کا تصور اڑا چلے

ورو زبان درود ہے جس کے شانہ روز

اللہ کا وہ لطف و کرم دیکھا چلے

زاہد امید حور کے رستے پر ہے رواں

ایسا کہاں جو فقط خدا برائے خدا چلے

کر دے علادوئے⚠️ دیں کو جو گمراہلہ بلاؤلہ⚠️

فرمان ذاتِ⚠️ حق سے وہ تیر قضا چلے

توفیق حق رفیق ہے ساجدؔ ہزار شکر

اہل جہاں کو نعتِ نبیؐ ہم سنا چلے