← شوقِ فراواں
کیا ہیں خوش بخت نبیؐ کے جو ہوئے متوالے
گل جہاں سے ہیں جن خدا لوگ محبت والے
نام لیوا ہیں شہرؐ دیں کے غموں سے آزاد
سرخرو دہر میں ہیں آپؐ کی نسبت والے
دل اگر صاف ہے تسکین مقدر اُس کا
رِتے ہیں کرب سے بے بے حال کدورت والے
اُن کے چہروں سے عیاں ہوتی ہے اک خاص ضیا
صاف آتے ہیں نظر اُن سے قرابت والے
اپنے سرمایہ اخلاص پہ ہے فخر انہیں
گوہر و زر پہ کریں ناز یہ دولت والے
جن کے دل میں ہے بھی گنبد خضریٰ کی بہار
لوگ ہوتے ہیں حقیقت میں وہ قسمت والے
جن کی صحبت میں سکوں ملتا ہے دل کو ساجدؔ
بندے ہوتے ہیں خدا کے وہ سعادت والے