شوقِ فراواں

جہاں سارا ہے پیغمبرؐ جہاں کے لیے

تمام نعتیں آقائے مہرباں کے لیے

مدینے جاؤں مرا دل ہے رات دن مضطر

پرندہ جیسے ہو بے چین آشیاں کے لیے

کوئی بھی چیز لُبھاتی نہیں مرے دل کو

ترس گئی ہے نظر اُن کے آستاں کے لیے

مشرفِ آپؐ کے قدموں سے عرشِ پاک بُہوا⚠️

یہ بات فخر کی ہے بامِ آسماں کے لیے

سمجھ میں آ نہیں سکتی وہ ذات ہے ہمتا

نشاں چاہیے کچھ ذات بے نشاں کے لیے

نہیں ہے علمِ کی دولت نہ کوئی استعداد

نہیں ہے کچھ بھی مرے پاس امتحاں کے لیے

سہارا اور نہیں چاہیے مجھے ساجدؔ

نبیؐ کا نام ہے کافی مجھے اماں کے لیے