← شوقِ فراواں
اک قبضہ سے یہ حالات سنور پھر سکر⚠️ جائیں گے
چہرے مرجھائے ہوئے پھر سے نکھر جائیں گے
در شہرِ حسن کا ہے رحمتِ خلاق کا در
چھوڑ کر در یہ جہاں والے کدھر جائیں گے
وحشتوں سے ہے مجھے راہبرِ منزل
لے لے کے اللہ کا نام ہم گزر جائیں گے
سخت جاں ہوتے ہیں یہ تاجِ فرمانِ نبیؐ
یہ وہ راہی نہیں جو تھک کے گھر⚠️ جائیں گے
نام لیوا یہ نبیؐ کے ہیں انہیں کیا خطرہ
اہلِ کشتی یہ سبھی پار اُتر جائیں گے
آپؐ اللہ کے محبوب سے مایوس نہ کریں
چپتے بھی خالی ہیں دامان یہ بھر جائیں گے
نعت خوانی ہی مقدر ہوا ساجدؔ جن کا
نعت پڑھتے ہوئے جائیں گے ادھر⚠️ جائیں گے