شوقِ فراواں

جب سمیٹا آپؐ جہاں میں آئے درود آشنا

درود کوئی بھی نہیں لادوا⚠️

شانِ اُن کی بادشاہوں سے ورا

تخت سے بڑھ کر ہے اُن کا بُوریا⚠️

اُن کا بندہ دے سلطان کو کدا

شاہ کی چھولی⚠️ مجھے اُن کا کدا⚠️

میرے آقا! اُک توجہ چاہیے

آپؐ پر روشن ہے دل کا ماجرا

بخششوں کا بھی نہیں ہے کوئی شار⚠️

ٹمکی ہے میں ہوں سراو⚠️ واری سرا⚠️

آزمایا جا رہا ہے ضبطِ دل

دیکھتے ہوتا ہے اب کیا فیصلہ

آج کل ساجدؔ عجیب ہے خودی

زندگانی کا الوکھا⚠️ مرجا⚠️