← شوقِ فراواں
اس طرف شکرِ خدا لطف کے بادل کے آئے
باغ ہیں اب جو نظر کل ہمیں جنگل کے آئے
بزمِ نائوت⚠️ میں آئے ہیں موثرِ⚠️ آقا
پردہ بُہو⚠️ سے برو سب سے وہ اولؑ کے آئے
چشمِ احوال کو نظر آتی ہے اک شکل
چشمِ خوش میں کو نظر ایک ہی پل پل کے آئے
جو ابو جہل ہے اصلاً ہے ابو ذر کب
دے مزا قند کا کیوں⚠️ بن کے جو چھَل⚠️ کے آئے
رہے شاداب سدا باغِ محبتِ دل کا
گنہد⚠️ سبز نظر ہم کو مسلسل کے آئے
تلخی نزع سے جب زباں ہو میری
آپؐ رحمتِ کی میرے ہونٹوں پہ چھاگل⚠️ کے آئے
ہو مزا تجھ کو عطا مستی حق کا ساجدؔ
باغِ جنت کا ترے میں میں وہ پھل پل کے آئے