شوقِ فراواں

حقِ کا رسولؐ منزل کا نشاں رہے

دائم خدا و خلق کے درمیاں رہے

وہ اپنی زندگی کا عجب خاص دور تھا

جو دن نبیؐ کے شہر میں ہم سایہ⚠️ باں رہے

اجسامِ اڑھتے خاک کی چادر سوئے خواب

روحوں کے قافلے مگر جیمِ⚠️ روواں رہے

سوغاتِ بیچتے⚠️ ہیں جو اکثر درود کی

بڑی میں بھی ہو وہ حوصلے والے جواں رہے

نسبت جنہیں خدا کے نبیؐ کی ہے بخشی ہے

ہوشیار وہ ہمیشہ دمِ امتحاں رہے

یارب! نماز ڈانگی⚠️ دل کو نصیب ہو

آئے گی نسمتیں⚠️ مرا ورد جاں رہے

ساجدؔ نہیں جدا رہے آقا سے ہم کبھی

جاں اپنی اُن کے در پہ رہیں ہم جہاں رہے