شوقِ فراواں

جو پہلوا⚠️ شیر اُس کے مجھ سے مجھ بجھری⚠️ ہے

پریشانی ہے

دیکھ کر جلوہِ عجب عالم حیرانی ہے

کر گئی اُن کی نظر کیفِ سرشار مجھے

اور بڑھ جاتی ہے ہر بار تمنا دل کی

آپؐ نے گو کہ بلایا ہے کئی بار مجھے

اُن کی یادوں میں گزرتے ہیں خوشی سے دن رات

غم ستاتا ہے کوئی اور نہ آزار مجھے

وہ کرم مجھ پہ ہے سلطاں کو بھی آئے

دے گیا طرفِ⚠️ طالعِ⚠️ بیدار مجھے

شکر ہے شکرِ کی توفیق خدا نے بخشی

ان شکر غم میں آئے ہیں اسرار مجھے

جیسے سوغاتِ درودوں کی نے بخشی بخشی

مجھ کو ہر شے سے ہیں افضل مرے سرکار مجھے