شوقِ فراواں

خدا کے دین کا روشن دہر آفتاب رہے

سدا لگاہوں⚠️ میں اللہ کی کتاب رہے

بعدِ نیاز عمل ہو نبیؐ کی سنّت پر

ہمارے چہروں پہ رحمت کی آب و تاب رہے

ہر ایک کام ہو خوشنودیِ خدا کے لیے

کوئی گناہ نہ چشمِ پیش جواب رہے

خدا کا راستہ سیدھا ہے اور آساں بھی

پر از ہجوم سدا جادہ صواب رہے

جو یہ بیٹھتے ہیں جو بزمِ نبیؐ میں ایک پَل

رہے جو دور نبیؐ سے سدا خراب رہے

جاہل ہے مستِ ساغرِ مستِ میں نگاہ اک

علامہ جہاں بُہوا⚠️ ناخواندہ⚠️ جو ہو گیا

اک فعلہ⚠️ ہے کہ وجل⚠️ ہوتا ہے دل کے اندر

گذر ہو اُن کی خلد سے یا انتساب رہے

نبیؐ کا نام دل افزا لبوں پہ ہو ساجدؔ

خیال میں وہ جمالِ رُخِ پُرآب رہے