شوقِ فراواں

محمدؐ محمدؐ ہم بے کسوں کے آشنا ٹھہرے

رسولوں کے مدعِ دل کے مُدعِا⚠️ ٹھہرے

امیرِ حقیقتاً حق پہنچنے کا وسیلہ ہو

رسولوں کے امام اور اولیاء کے درباﺮ ٹھہرے

جمالِ مصطفیٰؐ کا مثل نہیں ہے عالم میں

وہ پیکر نور کا صدرِ روقِ ارض و سماء ٹھہرے

انہیں سے عرش رنگ و کشتِ رنگ و بگِ بھی⚠️ جنت

انہیں سے ہیں وہ عالم کے ربِّ حا⚠️ ٹھہرے

وہی مطلق مقیدؔ⚠️ دونوں شامنِ⚠️ ربِّ عالم کے

وہی مجبوز⚠️ سامانِ بھی وہی خالقِ⚠️ ٹھہرے

وسیلہ واسطہ فعل نیکو یا مردِ نیکو ہو

نبی سامان اجابت کا سدا ہر دور ٹھہرے

فقط نسبت ہی کام آئے گی ساجدؔ کے

وسیلہ میری بخشش کا شعرِ دیں کی ولاء ٹھہرے