شوقِ فراواں

مدینے جائیں دل و جاں کو قرار آئے

ہماری روح کی صحرا میں بھی بہار آئے

نبیؐ کے باغ کے جھونکے جہاں جہاں پہنچے

الم کے ماروں کی تقدیر وہ سنوار آئے

بھنسور⚠️ سے ہم کو نکلالا⚠️ خدا کی رحمت نے

تھے ہاتھِ غیب ہمیں جن کو جو پار اُتار آئے

سبھی وہ دامنِ دل بھر کے یاسِ⚠️ رسولؐ کے

در و رسولؐ پہ جو بھی امیدوار آئے

درود پڑھتے ہوئے طے کیا تمام سفر

ہزار راہ میں دشت آئے خار زار آئے

بہار گنبد خضریٰ کا ہے جمال کہاں

ہے کہ دیکھتے ہی جاں کو قرار آئے

آنکھیں حجاب میری چشمِ جاں سے بھی ساجدؔ

مرے نصیب میں طیبہ کا گر غبار آئے