شوقِ فراواں

منتظر ہیں اُن کے متوالے پڑے

راہ میں ہیں نور کے ہالے پڑے

ہم سفر بے ذوق یکسر ہے عذاب

کوس⚠️ سارے راہ کے کالے پڑے

کل گزر دنیا کے کوچے سے ہوا

ہر طرف سے کان میں نالے پڑے

اُس کے لب پر محضِ⚠️ ذکر حور تھا

آج ہم پلے⚠️ زاہد کے پالے پڑے

کچھ مسافر عمر بھر چلتے رہے

پاؤں پر اُن کے نہیں چھالے پڑے

طیبہ اور کہ مکہ گزرا وقت خوب

رحمتوں کے رات دن جھالے⚠️ پڑے

روکتِ حق نے اُن کو نصیب ہو ساجدؔ

جن کے دل کے در پہ ہیں تالے پڑے