شوقِ فراواں

راہِ حق پر رواں رہنے کو کیا پتھر کو سمجھاتے

گرے سجدے میں گر اُس کو کیندگر⚠️ شعلہ⚠️ خود سر کو سمجھاتے

یہ چلنا خود سے سری⚠️ تیز و تند اُس کا ناچلنا⚠️ ہے

خوشاَ⚠️ جھوکے⚠️ ہوائے ہواء کے صرصر کو سمجھاتے

لب لعلیں کو تو نے مس کیا ہے اے لب ساغرا⚠️!

لگانا مُنہ نہ جام جم کو یہ ساغر کو سمجھاتے

صفائے آئینہ میں عمر ساری کی رنگینیِ روشنِ⚠️ نہ

نہ دیکھا رنگ اپنا یا ہم اپنا روشنگر کو سمجھاتے

نبیؐ کی یادِ میں روتے ہیں جن کا بخت عالی ہے

جو سمجھائے کی ہوتی بات چشم تر کو سمجھاتے

دلوں میں زر کا بار جانا شقاوت کی علامت ہے

گذر ہو جب تک زر کا⚠️ یہ اہلِ زر کو سمجھاتے

اگر ملنا خدا سے ہے نبیؐ سے ہم ملیں پہلے

اگر ساجدؔ ہمارے ہیں بس میں ہم سب کو سمجھاتے