شوقِ فراواں

دیکھا جو مہ پہ شاہ کا حق آسماں پر

شیطاں کا رنگ ہو گیا فق⚠️ آسماں پر

پڑھنے لگے فرشتے کھڑے ہو کے شوق سے

پہنچا جو نعت کا یہ ورق آسماں پر

کیا عطر بیز روحِ جنابِ رسول ہے

جاتی ہے اُن کی منکبِ⚠️ عرقِ آسماں پر

شاہِ جہاں کے گنبدِ خضری کو دیکھ کر

ہے پھڈکتی⚠️ طرب سے مشتقِ⚠️ آسماں پر

اُن کی خوشی میں بنتے ہیں اِس خاک سے ولی

شکر کے طشت اور طبق آسماں پر

صلِّ علی کا شور فرشتوں کے لب پہ تھا

صحرا تھا نور کا دقِ و دق⚠️ آسماں پر

ساجدؔ نبی کی حاضری کو آئیں فوج فوج

موجود ہیں جو لشکرِ حق آسماں پر