← شوقِ فراواں
کھلے ہیں دل یہ مدینے کی ہے ہوا کا اثر
شہِ جمال کی خوشبوئے جاں فزا کا اثر
نبی کے سائے دیوار میں سکون اللہ
ستیں⚠️ سے ابھرا⚠️ ہوا سایہ ہما⚠️ کا اثر
ہے گرچہ سادہ غلام اُن کا پُر جلال مگر
یہ رعب سارا ہے اللہ میں فنا کا اثر
محیط سارے جہاں پر ہے سایۂ رحمت
تمام برکتیں ہیں لطفِ والمجی⚠️ کا اثر
ستم رسیدہ⚠️ کا بھکولا⚠️ نہیں زمانے کو
ہے دل میں اب بھی غمِ شاہِ کربلا کا اثر
نبی کے پاک وسیلے سے ہاتھ پھیلائیں
جہاں دیکھے گا کیا چیز ہے دعا کا اثر
نجات مل گئی ساجدؔ غمِ جہاں سے ہمیں
یہ سب کشائشیں⚠️ ہیں نعتِ مصطفیٰ کا اثر