شوقِ فراواں

جنّ ہر دم انس و قدسی اُن کے ہیں دربار پر

ہوں تحیّات اُن کو⚠️ گنتِ⚠️ گُل خلق کے سردار پر

جس کو دربانیِ نبی کے پاک در کی ہے نصیب

جیں⚠️ ملک حیران اُس کے طالعِ⚠️ بیدار پر

آپ جس تیزی سے پہنچے لامکاں تک مرحبا

ہے فلک شش در⚠️ نبی کی تیز رفتار پر

پاک تعلیمِ نبی ہیں زینتِ عرش بریں

قدسی و غلماں فدا ہیں آپ کے انوار پر

چاند اور سورج کی کرنیں پیش کرتی ہیں سلام

چادرِ محبوبِ ربّانی کی اک اک تار پر

اُن کی رہ کے سنگریزوں میں ہے اتنی بالکل⚠️

اب نظر جمتی نہیں ہے گوہرِ شہوار پر

اے شہِ کون و مکاں! ساجدؔ پریشاں حال ہے

ہو نگاہِ لطف اِس صیدِ⚠️ غم و آزار پر