← شوقِ فراواں
گھاٹ میں بیٹھا ہے ہر رہزنِ⚠️ الحفیظ
مشفق من! خواجۂ من! الحفیظ
آدمی کو ہے سمجھنا سخت کام
کون مونس کون دشمن الحفیظ
کیا چھپائی ہے تباہی کفر نے
لٹ گیا کابل کا جوہن⚠️ الحفیظ
کیا ہوئی قندھار کی دلکش بہار
خاک ہے مل کر یہ خرمنِ⚠️ الحفیظ
سیّدِ لولاک! اک چشمِ کرم
اوج پر ساحر کا ہے فن الحفیظ
ہم یہ دل سے چاہتے ہیں یا نبی!
آپ کا چھوٹے نہ دامن الحفیظ
دل تھے ساجدؔ صورتِ گل شاداں
مل مٹے گلشن کے گلشن الحفیظ