← شوقِ فراواں
اتنی آپؐ کے سب آپؐ کے در پر پہنچیں
آپؐ کے جیتے ہیں فرمان وہ گھر گھر پہنچیں
فیض سب نبیوں کو سردارِ رُسل سے پہنچا
اوّل آئیں وہ مگر سب سے مؤخر⚠️ پہنچیں
اک فقط اُن کا تصوّر ہو فقط اُن کا خیال
بھول کر سارا جہاں روضۂ انور پہنچیں
ہم سے ممکن ہو اگر رحمتِ عالم کے حضور
عنبر و مشک کی خوشبو میں نہا کر پہنچیں
دولتیں بٹتی⚠️ ہیں سلطان کے در پر دن رات
بھر کے لائیں گے وہ دامن جو بے زر پہنچیں
اہلِ اسلام زبوں حال ہیں مجمل⚠️ عالم میں
اُن کی امداد کو اے سیّد و سرور! پہنچیں
آپؐ کے ہاتھ سے خیرات ملے رحمت کی
ساجدؔ اپنے بھی سرِ عرشِ مقدّر پہنچیں